Email Subscription

Wednesday, 6 May 2020

کرونا وائرس نئی تیار ہونے والی ویکسین مریض کے جسم کے اندر کیسے بیماری سے لڑ سکتی ہے


ماہرین کے مطابق تیار ہونے والی 
ویکسین بیماری سے پہلے دی جاتی ہے اس ویکسین میں اسی بیماری کے ویک یا ( inactive pathogen ) ہوتے ہیں بلکہ آج کل تو صرف اس پیتھوجن کا کوئی پارٹ ڈالا جاتا  ہے تاکہ امیونٹی کمزور ہونے کی وجہ سے  ویکسین سے بیماری نہ ہو جائے (ویکسین کی الگ الگ قسمیں ہوتی ہیں جن کا ذکر آگے ہوگا۔) جب ویکسین جسم میں دی جاتی ہے تو ہمارے وائٹ بلڈ سیلس پیتھوجن کو پہچان کے اس کے خلاف ( antibodies ) بنا لیتے ہیں ( ان سفید خلیوں کی کچھ قسمیں ہوتی ہیں جق کہ الگ الگ کام کرتی ہے یہاں پہچاننے کا کام T cells کرتے ہیں جبکہ Antibodies بنانے کا کام T cells کرتے ہیں )  تاکہ جب بھی یہ پیتھوجن جسم میں داخل ہو تو ہمارے ( wbcs ) اسی وقت اس کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہوگے کیونکہ ہمارے مدافعتی نظام کے یاداشت والے خلیوں میں ان کے Antigen کی معلومات پہلے سے موجود  ہوتی ہیں لہذا اس سے پہلےکہ وہ وائرس جسم میں اپنی کاپیاں بنائے اور بیماری پیدا کرے ہمارے WBCS ان کے خلاف Antibody تیار کر کے انہیں ختم کر دیتے ہے بیکٹیریا اگر حملہ کرے تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے لیکن یہاں ہمارے WBCS اینٹی باڈیز کے علاوہ Antitoxin بھی بنا سکتاہے جو کہ بیکٹیریا کی نقصاندہ پروٹین کے اثر کو زائل کر دے گا۔
ویکسین کی بہت قسمیں ہوتی ہیں جس میں سے تین یہ ہیں۔

1.Live Attenuated Vaccines :
ان ویکسینز میں جراثیم کو کمزور مگر زندہ حالت میں جسم میں ڈالا جاتا ہے کیونکہ یہ ابھی کمزور ہے تو بیماری پیدا نہیں کر سکتا لیکن ہمارا مدافعتی نظام اس کو پہچان کے اس کے خلاف Antibodies بنا لے گا اور اپنے یاداشتی خلیوں میں ان کی معلومات محفوظ کر لے گا۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ چونکہ یہاں پہ زندہ جرثومے کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے تو ایک یا دو بار دینے سے ہی یہ ویکسین زیادہ تر تمام زندگی اس بیماری حفاظت کرتی ہے۔ لیکن یہ ویکسین دیتے وقت یہ خیال لازمی رکھا جاتا ہے کہ اس انسان کا مدافعتی نظام کمزور نہ ہو مثلا اسے پہلے سے ہی ایڈز یا کوئی دوسری بیماری نہ ہو ورنہ یہ کمزور جرثومہ بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح کی ویکسین Measles , Mumps and Chicken pox جیسی بیماریوں سے بچاو کے لیے دی جاتی ہے۔

2. Inactivated Vaccines :
اس ویکسین میں مردہ جرثومے ( Heat Killed ) کو جسم داخل کیا جاتا ہے چونکہ اس کے اندر اس کے Antigen موجود ہوتے ہیں لہذا آگے پھر وہی پراسس ہوگا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ اس قسم کی ویکسین Rabies اور پولیو سے بچاو کے لیے استعمال ہوتی ہے

3.Conjugate Vaccine 
اس ویکسین میں بس ایک خاص Antigen یا کاربوہاڈریٹ جیسے بیکٹیریا کی cell wall کو جسم میں انجیکٹ کیا جاتا ہے اس طرح کی ویکسین کی مثال Hepatitis B ہے۔

ہاں کچھ ویکسینس لائف لونگ تحفظ دیتی ہیں اور بار بار کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی جبکہ کچھ مخصوص مدت کے لیئے ہوتی ہیں جس کی وجہ یا تو ان پیتھوجن کی ( adaptations  ) ہیں یا وہ امیونٹی کے میموری سیلس میں ( store ) نہیں 
ہوتی کہ امیونٹی انہیں پہچان نہیں پاتی
کرونا وائرس کی اس وقت تک تقریباً 77 ویکسین پر کام جاری ہے تاہم کچھ سائنس دانوں کی راۓ مختلف بھی ہو سکتی ہے ویکسین کی کے مطابق 

No comments:

Post a Comment