Email Subscription

Wednesday, 20 May 2020

نیوزی لینڈ میں اسلام مخالف پوسٹ کرنے والے بھارتی شہری کو جوڈیشل آفیسر کے عہدے سے معطل کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دنیا میں

 نیوزی لینڈ میں اسلام مخالف پوسٹ کرنے والے بھارتی شہری کو جوڈیشل آفیسر کے عہدے سے  معطل کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دنیا میں مسلم مخالف بیانات دینے والے بھارتیوں کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، نیوزی لینڈ میں مقیم بھارت کی جانب سے مسلم مخالف بیانات پر حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے کمیونٹی لیڈر کو جوڈیشل آفیسر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
یہ نیوزی لینڈ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں ملک کے اندر مذہبی انتشار پھیلائے جانے کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے۔کانتی لال بھابا بھائی پٹیل سوشل میڈیا پر نفرت آمیز مواد شیئر کرنے پر ولنگٹن کی جوڈیشل آفیسر کی رکنیت سے محروم ہوگئے۔ایسوسی ایشن کے وائس پریذیڈنٹ کا کہنا ہے کہ ہمیں کانتی لال کے خلاف ایک مستند شکایت موصول ہوئی،اسی لیے اب وہ ایسوسی ایشن کا مزید حصہ نہیں رہے۔)

جبکہ ایسوسی ایشن کی نائب صدر این کلارک کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہوا ہے کہ کانتی لال کی سوشل میڈیا پوسٹس ہماری ایسوسی ایشن کے ضابطہ اخلاق کے خلاف ہیں۔نیوزی لینڈ کے مقامی اخبار کے اداریے میں واقعے پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ دکھ کی بات ہے کہ اسلام فوبیا اب نیوزی لینڈ کی سرحدوں کو پار کر چکا ہے۔
گزشتہ چند ماہ میں ہم نے ایسے واقعات دیکھے ہیں جس میں بھارتیوں کی دوسرے ممالک میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز پوسٹ سامنے آئیں اور جس کی وجہ سے ان بھارتیوں کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ایسا ہی واقعہ نیوزی لینڈ میں پیش آنا افسوسناک ہے۔گزشتہ سال اس ملک نے تاریخ کا بدترین حملہ سہا ہے اور اس کی بنیاد بھی اسلام فوبیا تھی

No comments:

Post a Comment