WORLD NEWS
اس پوسٹ کو شیئر کریں فیس بک اس پوسٹ کو شیئر کریں وٹس ایپ اس پوسٹ کو شیئر کریں Messenger اس پوسٹ کو شیئر کریں ٹوئٹر شیئر
کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔
برطانیہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔
یہ دوا عالمی پیمانے پر جاری علاج کی اس بڑی آزمائش کا حصہ ہے جس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مروجہ ادویات میں سے کورونا وائرس کے خلاف کوئی کارگر دوا ہے
آزمائش میں اس دوا کے استعمال سے ایسے مریضوں میں اموات کی شرح ایک تہائی کم ہوئی ہے جو مصنوعی تنفس یعنی وینٹیلیٹر پر تھے اور جو مریض آکسیجن پر تھے ان کی اموات میں 20 فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انگلینڈ میں وبا کے آغاز کے ساتھ ہی یہ دوا مریضوں کو دی جاتی تو پانچ ہزار کے لگ بھگ زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔
اس کے علاوہ، غریب ملکوں میں جہاں کووڈ 19 کے مریضوں کی بڑی تعداد ہے، وہاں اس سے بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔
کورونا وائرس کا شکار تقریباً 20 میں سے 19 افراد ہسپتال جائے بغیر صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ جو ہسپتال میں داخل کیے جاتے ہیں ان میں سے بھی اکثریت شفایاب ہوئی، البتہ کچھ کو آکسیجن یا مصنوعی تنفس کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اور جن کو داخل کیا جاتا ہے ان میں جن مریضوں کی حالت نازک ہوتی ہے ڈیکسامیتھازون کے استعمال سے انھیں فائدہ ہوتا ہے۔
یہ دوا کئی عوارض میں سوزش کم کرنے کے لیے پہلے ہی تجویز کی جاتی ہے، اور بظاہر یہ دوا کورونا وائرس لگنے کے بعد اس کے خلاف جنگ میں جسم کے دفاعی نظام کو ہونے والے نقصان کو بھی کم کرتی ہے اور وائرس کا خاتمہ کرتی ہے۔
جسم کے دفاعی نظام کا حد سے زیادہ ردعمل سائٹوکائن کہلاتا ہے اور ہلاکت خیز ہو سکتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم کی نگرانی میں ہونے والی اس آزمائش کے دوران ہسپتال میں داخل کووِڈ19 کے دو ہزار مریضوں کو ڈیکسامیتھازون دی گئی اور پھر ان کا مقابلہ چار ہزار ایسے مریضوں سے کیا گیا جنھیں یہ دوا نہیں دی گئی۔
تجربے کے دوران وینٹیلیٹرز پر رکھے گئے مریضوں کی موت کا خطرہ 40 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گیا۔ جن مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت تھی ان میں موت کا خطرہ 25 سے کم ہو کر 20 فیصد رہ گیا۔
محققین کے سربراہ، پروفیسر پیٹر ہوربی کا کہنا ہے 'اب تک صرف یہ ہی ایک دوا ہے جس نے ہلاکت کی شرح کو کم کیا ہے، اور خاصی حد تک کم کیا ہے۔ یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔'
ایک اور محقق پروفیسر مارٹن لینڈرے کہتے ہیں کہ جن مریضوں کو مصنوعی تنفس کی ضرورت ہوتی ہے ان میں آٹھ میں سے ایک مریض کی جان اس دوا سے بچ سکتی ہے۔
اسی طرح جو مریض آکسیجن پر ہیں ان میں 20 سے 25 مریضوں میں سے کم سے کم ایک مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
- وہ کہتے ہیں کہ 'اس کا فائدہ بہت واضح ہے۔ اور 10 روز تک ڈیکسامیتھازون سے علاج پر فی مریض پانچ پاؤنڈ (تقریباً 6 ڈالر) خرچ آتا ہے۔ جس کا مطلب ہوا کہ زندگی بچانے کے لیے یہ دوا دنیا بھر میں دستیاب

No comments:
Post a Comment