Email Subscription

Wednesday, 17 June 2020

If enough people get the virus and recover, will we achieve so-called herd immunity? Open the for reply

WORLD NEWS
Why are COVID-19 vaccines needed so badly?
First this disease is highly transmissible. It’s transmitted by the respiratory route, so people spread it easily in crowded places. Obviously, it’s incapacitating and deadly. Finally, effective vaccines are the most economical means to control a transmissible infectious disease.
Another reason that vaccines have a particularly special role is that this disease can be transmitted by asymptomatic and presymptomatic individuals. In other words, somebody doesn’t have to have a fever or be coughing in order to infect the people around them.
Without a vaccine and without broad immunity in a population, COVID-19 could very well become an endemic infection. That means it remains steady in the population, like chicken pox, and unlike other pathogens that cause outbreaks and then recede, such as Ebola or Zika.
Finally, as we’re experiencing, the economic and human impacts of COVID-19 are huge. 

If enough people get the virus and recover, will we achieve so-called herd immunity?

That’s pretty unlikely. There would be a lot of lives lost before we achieved a percentage of immune people in the population sufficient to prevent community transmission. In so-called herd immunity, if a high proportion (70% to 95%) of the population is immune, then a person with the disease is unlikely to cause an outbreak. To achieve that level of immunity to COVID-19 in a community through natural infection, it would mean that nearly everyone in the community would need to be infected, and with a 1% mortality rate for COVID-19, that’s unacceptable

خوشخبری کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔ تفصیلات کے لئے مکمّل آرٹیکل پڑھیں نیچے دیے گیے لنک پر کلک کیجئے

WORLD NEWS
اس پوسٹ کو شیئر کریں فیس بک اس پوسٹ کو شیئر کریں وٹس ایپ اس پوسٹ کو شیئر کریں Messenger اس پوسٹ کو شیئر کریں ٹوئٹر شیئر

کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔

برطانیہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔

یہ دوا عالمی پیمانے پر جاری علاج کی اس بڑی آزمائش کا حصہ ہے جس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مروجہ ادویات میں سے کورونا وائرس کے خلاف کوئی کارگر دوا ہے

آزمائش میں اس دوا کے استعمال سے ایسے مریضوں میں اموات کی شرح ایک تہائی کم ہوئی ہے جو مصنوعی تنفس یعنی وینٹیلیٹر پر تھے اور جو مریض آکسیجن پر تھے ان کی اموات میں 20 فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انگلینڈ میں وبا کے آغاز کے ساتھ ہی یہ دوا مریضوں کو دی جاتی تو پانچ ہزار کے لگ بھگ زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔

اس کے علاوہ، غریب ملکوں میں جہاں کووڈ 19 کے مریضوں کی بڑی تعداد ہے، وہاں اس سے بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔

کورونا وائرس کا شکار تقریباً 20 میں سے 19 افراد ہسپتال جائے بغیر صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ جو ہسپتال میں داخل کیے جاتے ہیں ان میں سے بھی اکثریت شفایاب ہوئی، البتہ کچھ کو آکسیجن یا مصنوعی تنفس کی ضرورت پیش آتی ہے۔

اور جن کو داخل کیا جاتا ہے ان میں جن مریضوں کی حالت نازک ہوتی ہے ڈیکسامیتھازون کے استعمال سے انھیں فائدہ ہوتا ہے۔

یہ دوا کئی عوارض میں سوزش کم کرنے کے لیے پہلے ہی تجویز کی جاتی ہے، اور بظاہر یہ دوا کورونا وائرس لگنے کے بعد اس کے خلاف جنگ میں جسم کے دفاعی نظام کو ہونے والے نقصان کو بھی کم کرتی ہے اور وائرس کا خاتمہ کرتی ہے۔

جسم کے دفاعی نظام کا حد سے زیادہ ردعمل سائٹوکائن کہلاتا ہے اور ہلاکت خیز ہو سکتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم کی نگرانی میں ہونے والی اس آزمائش کے دوران ہسپتال میں داخل کووِڈ19 کے دو ہزار مریضوں کو ڈیکسامیتھازون دی گئی اور پھر ان کا مقابلہ چار ہزار ایسے مریضوں سے کیا گیا جنھیں یہ دوا نہیں دی گئی۔
تجربے کے دوران وینٹیلیٹرز پر رکھے گئے مریضوں کی موت کا خطرہ 40 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گیا۔ جن مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت تھی ان میں موت کا خطرہ 25 سے کم ہو کر 20 فیصد رہ گیا۔

محققین کے سربراہ، پروفیسر پیٹر ہوربی کا کہنا ہے 'اب تک صرف یہ ہی ایک دوا ہے جس نے ہلاکت کی شرح کو کم کیا ہے، اور خاصی حد تک کم کیا ہے۔ یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔'

ایک اور محقق پروفیسر مارٹن لینڈرے کہتے ہیں کہ جن مریضوں کو مصنوعی تنفس کی ضرورت ہوتی ہے ان میں آٹھ میں سے ایک مریض کی جان اس دوا سے بچ سکتی ہے۔

اسی طرح جو مریض آکسیجن پر ہیں ان میں 20 سے 25 مریضوں میں سے کم سے کم ایک مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

  • وہ کہتے ہیں کہ 'اس کا فائدہ بہت واضح ہے۔ اور 10 روز تک ڈیکسامیتھازون سے علاج پر فی مریض پانچ پاؤنڈ (تقریباً 6 ڈالر) خرچ آتا ہے۔ جس کا مطلب ہوا کہ زندگی بچانے کے لیے یہ دوا دنیا بھر میں دستیاب

Monday, 8 June 2020

Former prime minister of Pakistan shahid khaqan abbasi and federal minister sheikh rashid also became infected with COVID 19



Former prime minister of Pakistan shahid khaqan abbasi and federal minister sheikh rashid also became infected with corona virus. According to the details, corona virus has destroyed the country. Many politicians have so far been wrapped up with deadly virus. Corona virus has now begun to wrap Pakistan's senior politicians. Corona virus has also been confirmed in sheikh rashid ahmed.
 It has been reported that sheikh rasheed's corona test has been positive after which he has gone to quarantine for two weeks. According to the ministry of railways, sheikh rashid ahmed has no symptoms of corona virus. However they went into issolation. Earlier, Pakistan Muslim league-nawaz (pml-n) central leader and former prime minister shahid khaqan abbasi came to the corona test positive.
 After which the former prime minister made himself an isolate at home. Former pml-n leader maryam orangzeb confirmed that former prime minister shahid khaqan abbasi made a corona test, after which his report was positive and former prime minister shahid khaqan abbasi has made himself an iso latte in koghar. Pml-n President and leader of the opposition shahbaz sharif expressed deep concern and regret over former prime minister and party senior vice President shahid khaqan abbasi's corona test coming positive. In his statement on Monday, he said that shahid khaqan abbasi is a valuable investment of the party, Allah almighty gives them good health.
 He said that shahid khaqan abbasi is an honest, capable and compassionate human being with the pain of the nation. The growing number of victims from korona has taken a terrible shape. May Allah almighty protect us and all.

پاکستان کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وفاقی وزیر شیخ رشید بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے۔



پاکستان کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وفاقی وزیر شیخ رشید بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس نے ملک بھر میں تباہی مچا دی ہے۔کئی سیاست دان اب تک مہلک وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔کورونا وائرس نے اب پاکستان کے سینئیر سیاست دانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔وفاقی وزیر شیخ رشید احمد میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد وہ دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔ترجمان وزارت ریلوے کے مطابق شیخ رشید احمد کو بظاہر کورونا کی کوئی علامات نہیں ہیں۔ تاہم وہ آئسولیشن میں چلے گئے۔
قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کاکرونا ٹیسٹ پوزیٹو آیا۔
جس کے بعد سابق وزیر اعظم نے خود کو گھر میں آئیسو لیٹ کرلیا ۔ترجمان مسلم لیگ (ن)کی رہنما مریم اور نگزیب نے تصدیق کی کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کورونا کا ٹیسٹ کرایا جس کے بعد ان کی رپورٹ پوزیٹو آئی ہے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خود کوگھر میں آئیسو لیٹ کرلیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق وزیراعظم اور پارٹی کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے پیر کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی پارٹی کا قیمتی سرمایہ ہیں، اللہ تعالی انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے۔
انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی ایک ایماندار، اہل اور قوم کا درد رکھنے والے قابل اور وفا شعار انسان ہیں۔کورونا سے متاثرین کی بڑھتی تعداد نے خوفناک شکل اختیار کر لی ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے شاہد خاقان عباسی سمیت تمام متاثرہ افراد کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین۔