Email Subscription

Tuesday, 1 September 2020

عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف اور مسّلم لیگ ن بری طرح پھنس گے تفصیلات جاننے کے لئے لنک پر کلک کریں



عدالتی حکم کے باوجود نوازشریف ابھی واپس نہیں آنے والے کیونکہ سیاست دان ہمیشہ سیاسی فائدے کے لیے آتا ہے ، اس وقت کوئی ایسا بڑا سیاسی فائدہ نہیں جو انہیں مل سکے ، مجھے نہیں لگتا کہ حکومت بھی نوازشریف کو واپس لانا چاہے گی بلکہ حکومت انہیں اشتہاری قرار دلوا کر مزید گندا کرے گی کیونکہ حکومت کو نوازشریف کو جیل میں ڈالنے سے کچھ نہیں ملے گا ، ان کے غیرقانونی اثاثوں کے بارے میں تو پہلے ہی ثابت ہوچکا ہے اب تو صرف پیسوں کی ریکوری کرنی ہے 
عدالتی فیصلے پر اپنے تبصرے میں انہوں نے کہا کہ نوازشریف سرینڈر نہیں کریں گے تو انہیں اشتہاری قرار دے دیا جائے گا جس سے انہیں ایک اور عجیب طرح کا تمغہ لگ جائے گا تاہم نوازشریف واپس تو نہیں آنے والے کیونکہ انہیں کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوگا ، اس وقت واپس آکر انہیں سوائے جیل جانے کے کچھ نہیں ملے گا ، اس وقت نہ تو کوئی سیاسی مہم چل رہے اور نہ ہی ملک میں الیکشن ہونے والے ہیں ، جب کوئی سیاسی فائدہ ہی نہیں تو وہ واپس نہیں آئیں گے کیونکہ ساستدان ہمیشہ سیاسی فائدے کیلئے ہی واپس آتا ہے جب پہلے بیگم کلثوم نواز کو چھوڑ کر نوازشریف اور مریم نواز واپس آئے تو وہ فائدے کیلئے ہی آئے تھے تب الیکشن ہونے والا تھا انہیں معلوم تھا کہ ان کی گرفتاری سے الیکشن میں ان کی جماعت کو سیاسی فائدہ ہوگا جس سے انہیں زیادہ ووٹ پڑ جائیں گے اور ایسا ہوا بھی تھا انہیں ووٹ پڑے ہی اس وجہ سے تھے کہ انہوں نے واپس آکت گرفتاری دی ۔

اس وقت بھی مسلم لیگ ن کی اہمیت نوازشریف اور مریم نواز کی جیل کی وجہ سے ہی بڑی ہے. جب نوازشریف برطانیہ گئے تھے تو اس وقت حکومت نے برطانیہ کو 2 کاغذات دیے تھے جن میں ایک کابینہ کا فیصلہ تھا جب کہ دوسرا وہ تھا جس میں عدالت کا فیصلہ تھا کہ انہیں باہر بھیج دیا جائے

Wednesday, 17 June 2020

If enough people get the virus and recover, will we achieve so-called herd immunity? Open the for reply

WORLD NEWS
Why are COVID-19 vaccines needed so badly?
First this disease is highly transmissible. It’s transmitted by the respiratory route, so people spread it easily in crowded places. Obviously, it’s incapacitating and deadly. Finally, effective vaccines are the most economical means to control a transmissible infectious disease.
Another reason that vaccines have a particularly special role is that this disease can be transmitted by asymptomatic and presymptomatic individuals. In other words, somebody doesn’t have to have a fever or be coughing in order to infect the people around them.
Without a vaccine and without broad immunity in a population, COVID-19 could very well become an endemic infection. That means it remains steady in the population, like chicken pox, and unlike other pathogens that cause outbreaks and then recede, such as Ebola or Zika.
Finally, as we’re experiencing, the economic and human impacts of COVID-19 are huge. 

If enough people get the virus and recover, will we achieve so-called herd immunity?

That’s pretty unlikely. There would be a lot of lives lost before we achieved a percentage of immune people in the population sufficient to prevent community transmission. In so-called herd immunity, if a high proportion (70% to 95%) of the population is immune, then a person with the disease is unlikely to cause an outbreak. To achieve that level of immunity to COVID-19 in a community through natural infection, it would mean that nearly everyone in the community would need to be infected, and with a 1% mortality rate for COVID-19, that’s unacceptable

خوشخبری کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔ تفصیلات کے لئے مکمّل آرٹیکل پڑھیں نیچے دیے گیے لنک پر کلک کیجئے

WORLD NEWS
اس پوسٹ کو شیئر کریں فیس بک اس پوسٹ کو شیئر کریں وٹس ایپ اس پوسٹ کو شیئر کریں Messenger اس پوسٹ کو شیئر کریں ٹوئٹر شیئر

کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔

برطانیہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔

یہ دوا عالمی پیمانے پر جاری علاج کی اس بڑی آزمائش کا حصہ ہے جس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مروجہ ادویات میں سے کورونا وائرس کے خلاف کوئی کارگر دوا ہے

آزمائش میں اس دوا کے استعمال سے ایسے مریضوں میں اموات کی شرح ایک تہائی کم ہوئی ہے جو مصنوعی تنفس یعنی وینٹیلیٹر پر تھے اور جو مریض آکسیجن پر تھے ان کی اموات میں 20 فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انگلینڈ میں وبا کے آغاز کے ساتھ ہی یہ دوا مریضوں کو دی جاتی تو پانچ ہزار کے لگ بھگ زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔

اس کے علاوہ، غریب ملکوں میں جہاں کووڈ 19 کے مریضوں کی بڑی تعداد ہے، وہاں اس سے بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔

کورونا وائرس کا شکار تقریباً 20 میں سے 19 افراد ہسپتال جائے بغیر صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ جو ہسپتال میں داخل کیے جاتے ہیں ان میں سے بھی اکثریت شفایاب ہوئی، البتہ کچھ کو آکسیجن یا مصنوعی تنفس کی ضرورت پیش آتی ہے۔

اور جن کو داخل کیا جاتا ہے ان میں جن مریضوں کی حالت نازک ہوتی ہے ڈیکسامیتھازون کے استعمال سے انھیں فائدہ ہوتا ہے۔

یہ دوا کئی عوارض میں سوزش کم کرنے کے لیے پہلے ہی تجویز کی جاتی ہے، اور بظاہر یہ دوا کورونا وائرس لگنے کے بعد اس کے خلاف جنگ میں جسم کے دفاعی نظام کو ہونے والے نقصان کو بھی کم کرتی ہے اور وائرس کا خاتمہ کرتی ہے۔

جسم کے دفاعی نظام کا حد سے زیادہ ردعمل سائٹوکائن کہلاتا ہے اور ہلاکت خیز ہو سکتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم کی نگرانی میں ہونے والی اس آزمائش کے دوران ہسپتال میں داخل کووِڈ19 کے دو ہزار مریضوں کو ڈیکسامیتھازون دی گئی اور پھر ان کا مقابلہ چار ہزار ایسے مریضوں سے کیا گیا جنھیں یہ دوا نہیں دی گئی۔
تجربے کے دوران وینٹیلیٹرز پر رکھے گئے مریضوں کی موت کا خطرہ 40 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گیا۔ جن مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت تھی ان میں موت کا خطرہ 25 سے کم ہو کر 20 فیصد رہ گیا۔

محققین کے سربراہ، پروفیسر پیٹر ہوربی کا کہنا ہے 'اب تک صرف یہ ہی ایک دوا ہے جس نے ہلاکت کی شرح کو کم کیا ہے، اور خاصی حد تک کم کیا ہے۔ یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔'

ایک اور محقق پروفیسر مارٹن لینڈرے کہتے ہیں کہ جن مریضوں کو مصنوعی تنفس کی ضرورت ہوتی ہے ان میں آٹھ میں سے ایک مریض کی جان اس دوا سے بچ سکتی ہے۔

اسی طرح جو مریض آکسیجن پر ہیں ان میں 20 سے 25 مریضوں میں سے کم سے کم ایک مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

  • وہ کہتے ہیں کہ 'اس کا فائدہ بہت واضح ہے۔ اور 10 روز تک ڈیکسامیتھازون سے علاج پر فی مریض پانچ پاؤنڈ (تقریباً 6 ڈالر) خرچ آتا ہے۔ جس کا مطلب ہوا کہ زندگی بچانے کے لیے یہ دوا دنیا بھر میں دستیاب

Monday, 8 June 2020

Former prime minister of Pakistan shahid khaqan abbasi and federal minister sheikh rashid also became infected with COVID 19



Former prime minister of Pakistan shahid khaqan abbasi and federal minister sheikh rashid also became infected with corona virus. According to the details, corona virus has destroyed the country. Many politicians have so far been wrapped up with deadly virus. Corona virus has now begun to wrap Pakistan's senior politicians. Corona virus has also been confirmed in sheikh rashid ahmed.
 It has been reported that sheikh rasheed's corona test has been positive after which he has gone to quarantine for two weeks. According to the ministry of railways, sheikh rashid ahmed has no symptoms of corona virus. However they went into issolation. Earlier, Pakistan Muslim league-nawaz (pml-n) central leader and former prime minister shahid khaqan abbasi came to the corona test positive.
 After which the former prime minister made himself an isolate at home. Former pml-n leader maryam orangzeb confirmed that former prime minister shahid khaqan abbasi made a corona test, after which his report was positive and former prime minister shahid khaqan abbasi has made himself an iso latte in koghar. Pml-n President and leader of the opposition shahbaz sharif expressed deep concern and regret over former prime minister and party senior vice President shahid khaqan abbasi's corona test coming positive. In his statement on Monday, he said that shahid khaqan abbasi is a valuable investment of the party, Allah almighty gives them good health.
 He said that shahid khaqan abbasi is an honest, capable and compassionate human being with the pain of the nation. The growing number of victims from korona has taken a terrible shape. May Allah almighty protect us and all.

پاکستان کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وفاقی وزیر شیخ رشید بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے۔



پاکستان کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وفاقی وزیر شیخ رشید بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس نے ملک بھر میں تباہی مچا دی ہے۔کئی سیاست دان اب تک مہلک وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔کورونا وائرس نے اب پاکستان کے سینئیر سیاست دانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔وفاقی وزیر شیخ رشید احمد میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد وہ دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔ترجمان وزارت ریلوے کے مطابق شیخ رشید احمد کو بظاہر کورونا کی کوئی علامات نہیں ہیں۔ تاہم وہ آئسولیشن میں چلے گئے۔
قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کاکرونا ٹیسٹ پوزیٹو آیا۔
جس کے بعد سابق وزیر اعظم نے خود کو گھر میں آئیسو لیٹ کرلیا ۔ترجمان مسلم لیگ (ن)کی رہنما مریم اور نگزیب نے تصدیق کی کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کورونا کا ٹیسٹ کرایا جس کے بعد ان کی رپورٹ پوزیٹو آئی ہے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خود کوگھر میں آئیسو لیٹ کرلیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق وزیراعظم اور پارٹی کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے پیر کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی پارٹی کا قیمتی سرمایہ ہیں، اللہ تعالی انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے۔
انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی ایک ایماندار، اہل اور قوم کا درد رکھنے والے قابل اور وفا شعار انسان ہیں۔کورونا سے متاثرین کی بڑھتی تعداد نے خوفناک شکل اختیار کر لی ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے شاہد خاقان عباسی سمیت تمام متاثرہ افراد کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین۔

Sunday, 31 May 2020

Help needy people effected from COVID 19

WORLD NEWS

Today, habib colony town rawalpindi pakistan was able to give relief to 55 families in rawalpindi. All people's names will be kept in secret. In which sardar amjad afaq public school, Sardar saqib yasin, tahir saleh saheb ameer jamaat-e-islami rawalpindi and al-khidmat foundation worked hard. Insha Allah, this journey will continue. There is a large population of unemployed people here. 
With our little effort, may be has not had much impact, but if we try all together to encourage some, the situation of these people can soon improve. Thanks to all the people who participated in the project.

Monday, 25 May 2020

The Chinese army has arrested Indian soldiers in ladakh Kashmir

The Chinese army has arrested Indian soldiers in ladakh Kashmir. Ladakh, which is part of the occupied jammu Kashmir, has occupied India illegally. However, China claims that in ladakh, there are Chinese people living in ladakh and Chinese religion, which is part of China.
 But this time, China raised its voice in favor of oppressed kashmiris, India became bad and the border tension between India and China began. In the meantime, the infiltration of Indian troops in ladakh border area forced Chinese soldiers to operate.

The Chinese army, which is a strong and serious army compared to India, they took action by arresting the officers of the Indian army and realized the mistake.
 Indian army officers were badly humiliated and kidnapped by the Chinese army
 Chinese army releases cowardly soldiers after apologizing. #
 According to some analysts, China has taken control of ladakh, but it has yet to be seen how true this news is. China has got full control of # ladakh. Meanwhile # rss_m India have occupied illegal occupation in occupied Kashmir.
Many times there have been wars between Pakistan and India. According to United Nations resolutions, Kashmir's decision will be made by the people living there, but India does not allow the vote to be held every time, and the kashmiris are kept away from their right to the United Nations and the United States should be handel kashmir issue and resolve this issue before a big war.